مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کی معیشت کے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
واضح رہے ایران نے کسی بھی مذاکرات کو اسلامی جمہوریہ کی شرائط قبول کرنے سے مشروط کیا ہے، جبکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن وہ ’’حقیقی معاہدہ‘‘ کا خواہاں ہے۔
ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اپنی فرسودہ دھمکیاں بھی دہرائیں اور کہا کہ ایران پر نئے حملے ممکن ہیں۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے۔ شاید میں ایران کو تباہ کردوں اور یہ ممکن ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی جانے والی تعمیری تجاویز کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ جسے میں نے ایک سال پہلے مسترد کیا تھا، آج قبول نہیں کروں گا۔ ایرانیوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے کچھ پہلوؤں کا میں نے جائزہ لیا ہے، پوری تجویز کا نہیں، لیکن یہ تجویز آسانی سے کافی نہیں ہے۔
واضح رہے ٹرمپ کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین امریکی اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخائر کی صورتحال کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین قرار دے رہے ہیں۔
لیکن ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہتھیار ہیں، ہماری صورتحال بہترین ہے اور اب ہم بڑی مقدار میں انہیں ذخیرہ اور محفوظ کر رہے ہیں اور انہیں اپنے اتحادیوں میں تقسیم کریں گے۔ ہمارے ذخائر میں کمی سے متعلق زیادہ تر رپورٹس جھوٹی تھیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اس آبی گذرگاہ پر کنٹرول کے باوجود، امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے گزشتہ رات تاریخ میں سب سے زیادہ مقدار میں تیل آبنائے ہرمز سے گزارا۔ ہم نے آبنائے ہرمز کو ایران کے لیے بند کردیا ہے اور اس پر ہمارا کنٹرول ہے۔
یاد رہے اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور ایران کا پُرامن جوہری پروگرام متعلقہ بین الاقوامی اداروں کی نگرانی میں ہے، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے کیونکہ ایرانی پاگل ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرنے والے امریکی دہشت گرد صدر نے کہا کہ جیسے ہی ایران کے ساتھ معاہدہ ہوگا، تیل کی قیمتیں پہلے کی طرح کم ہوجائیں گی۔
آپ کا تبصرہ